Kaswa Explorers

Working for Peace & Education Through Sustainable Eco Tourism
Explorer, Tracker, Traveler, Tourist & Biker. Promoting Positive, Peaceful and Soft Image of Pakistan.

Yours may be Fast. But mine can go anywhere. Asif Riaz Butt
Kaswa🐪Explorers
Tourist Association
Pakistan.
☎03336142773
📞03006365122
Tourist Guide
Tourist Helper
Email : 📩 [email protected]
YouTube :💊
https://www.youtube.com/channel/UCUS0...
page :📌
https://www.facebook.com/KaswaExplorers/
Facebook :📘
Kaswa Ex
https://www.facebook.com/KaswaExplorer
Butt ON Bike Kaswa
https://www.fac

Operating as usual

30/05/2021

*مختصر کہانی
کچے برتن پکے برتن*
ایک اچھا کمہار مٹی سے برتن بنا کر اسے زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ نہی دیتا بلکہ اسے آگ کی سختی اور گرمی سے گذار کر اس طرح مضبوط بنا دیتا ھے کہ وہ ھر آزمائش پر پورا اتریں۔
👈 بلکل اسی طرح اچھے والدین بھی اپنے بچوں کو تربیت کی سختی سے اس لئے گذارتے ھیں کہ وہ مضبوط ، ھنرمند ، طاقتور اور تعلیم یافتہ بن جائیں تا کہ وہ دنیا کے سخت سے سخت امتحان میں کامیابی سے ھم کنار ھو۔
Asif Riaz Butt
Kaswa Explorers
Pakistan.
+923336142773

*مختصر کہانی
کچے برتن پکے برتن*
ایک اچھا کمہار مٹی سے برتن بنا کر اسے زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ نہی دیتا بلکہ اسے آگ کی سختی اور گرمی سے گذار کر اس طرح مضبوط بنا دیتا ھے کہ وہ ھر آزمائش پر پورا اتریں۔
👈 بلکل اسی طرح اچھے والدین بھی اپنے بچوں کو تربیت کی سختی سے اس لئے گذارتے ھیں کہ وہ مضبوط ، ھنرمند ، طاقتور اور تعلیم یافتہ بن جائیں تا کہ وہ دنیا کے سخت سے سخت امتحان میں کامیابی سے ھم کنار ھو۔
Asif Riaz Butt
Kaswa Explorers
Pakistan.
+923336142773

08/05/2021

INCREASE IN GLACIER LAKES
ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں نئی جھیلیں بنے کے ساتھ ساتھ سمندر کی سطح بلند ھو رھی ھے۔
(Based on Satellite Data)
Climate change fuels sharp increase in Glacier Lakes including in Pakistan.
The volume of lakes formed as glaciers worldwide melt due to climate change has jumped by 50 percent in 30 years, according to a new study based on satellite data.
Between 1994 and 2017, the world's glaciers, especially in high-mountain regions, shed about 6.5 trillion tonnes in mass, according to earlier research. "In the past 100 years, 35 percent of global sea-level rises came from glacier melting.
The other main sources of sea level rise are ice sheets and the expansion of ocean water as it warms. - Glacial lake outbursts - Earth's average surface temperature has risen one degree Celsius since preindustrial times, but high-mountain regions around the world have warmed at twice that pace, accelerating glacier melt. Unlike normal lakes, glacier lakes are unstable because they are often dammed by ice or sediment composed of loose rock and debris. When accumulating water bursts through these accidental barriers, massive flooding can occur downstream. Known as glacial lake outbursts, this kind of flooding has been responsible for thousands of deaths in the last century, as well as the destruction of villages, infrastructure and livestock, according to the study, published in Nature Climate Change. The most recent recorded incident was a glacial lake outburst that washed through the Swat Valley & Hunza Valley in Pakistan. The UN Development Programme estimated that more than 3,000 glacial lakes have formed in the Hindu Kush-Himalayan region, with 33 posing an imminent threat that could impact as many as seven million people. The new study, based on 250,000 scenes from NASA's Landsat satellite missions, estimates current glacial lake volume at more than 150 cubic kilometres (37 cubic miles), equivalent to one-third the volume of Lake Erie in the United States or twice the volume of Lake Geneva. A decade ago, it would have not been possible to process and analyse that volume of data.
Asif Riaz Butt
Kaswa Explorers
Pakistan.
+923336142773

INCREASE IN GLACIER LAKES
ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں نئی جھیلیں بنے کے ساتھ ساتھ سمندر کی سطح بلند ھو رھی ھے۔
(Based on Satellite Data)
Climate change fuels sharp increase in Glacier Lakes including in Pakistan.
The volume of lakes formed as glaciers worldwide melt due to climate change has jumped by 50 percent in 30 years, according to a new study based on satellite data.
Between 1994 and 2017, the world's glaciers, especially in high-mountain regions, shed about 6.5 trillion tonnes in mass, according to earlier research. "In the past 100 years, 35 percent of global sea-level rises came from glacier melting.
The other main sources of sea level rise are ice sheets and the expansion of ocean water as it warms. - Glacial lake outbursts - Earth's average surface temperature has risen one degree Celsius since preindustrial times, but high-mountain regions around the world have warmed at twice that pace, accelerating glacier melt. Unlike normal lakes, glacier lakes are unstable because they are often dammed by ice or sediment composed of loose rock and debris. When accumulating water bursts through these accidental barriers, massive flooding can occur downstream. Known as glacial lake outbursts, this kind of flooding has been responsible for thousands of deaths in the last century, as well as the destruction of villages, infrastructure and livestock, according to the study, published in Nature Climate Change. The most recent recorded incident was a glacial lake outburst that washed through the Swat Valley & Hunza Valley in Pakistan. The UN Development Programme estimated that more than 3,000 glacial lakes have formed in the Hindu Kush-Himalayan region, with 33 posing an imminent threat that could impact as many as seven million people. The new study, based on 250,000 scenes from NASA's Landsat satellite missions, estimates current glacial lake volume at more than 150 cubic kilometres (37 cubic miles), equivalent to one-third the volume of Lake Erie in the United States or twice the volume of Lake Geneva. A decade ago, it would have not been possible to process and analyse that volume of data.
Asif Riaz Butt
Kaswa Explorers
Pakistan.
+923336142773

05/05/2021

یہ کون لوگ ہیں؟
اینجلا مرکل Angela Merkel
(انگیلا میرکل)
مجھے کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘ ہم دو میاں بیوی ہیں‘ فلیٹ چھوٹا ہے‘ مل کر کام کر لیتے ہیں‘ کھانا میں خود بنا لیتی ہوں‘ میرا خاوند رات کو مشین میں کپڑے ڈال دیتا ہے‘ میں صبح انھیں استری کر لیتی ہوں‘ صفائی ہم دونوں مل کر کر لیتے ہیں چناں چہ ہمیں کبھی کک یا ملازم رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘‘۔

یہ الفاظ 15 برس تک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی سربراہ رہنے والی خاتون کے ہیں‘ جی ہاں یہ اینجلا مرکل ہیں‘ یہ 2005سے 2021 تک جرمنی کی مسلسل چانسلر آ رہی ہیں‘ یہ 9 سال سے فوربز میگزین کی موسٹ پاورفل لیڈی ‘ پورے یورپ اور فری ورلڈ کی لیڈر بھی ہیں‘ اینجلا مرکل 1954 میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں‘ والدین کے ساتھ مشرقی جرمنی گئیں‘ 1986 میں کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور ریسرچ سائنس دان کے طور پر کام شروع کر دیا‘ مشرقی جرمنی میں 1989 میں سیاسی بیداری کا عمل شروع ہوا تو یہ سیاست میں آئیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا‘ مختلف حیثیتوں میں کام کرتی رہیں‘ 2002 میں اپوزیشن لیڈر بنیں‘ گرہارڈ شنوڈر کو ہرا کر 2005میں جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں۔

یہ کمال تھا لیکن یہ اتنا بڑا کمال نہیں تھی‘ کمال اس خاتون نے اس کے بعد کیے اور پھران کی لائن لگا دی‘ جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا‘ ملک میں امن‘ سکون اور استحکام آیا اور جرمنی کا معاشی سکہ پوری دنیا میں چلنے لگا‘ یہ مسلسل 15سال چانسلر رہیں‘ یہ مزید بھی رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے 2018 میں اعلان کر دیا ’’میں 2021کے الیکشنز میں حصہ نہیں لوں گی‘ میں سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہوں‘‘ یہ اعلان عجیب تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ دنیا‘ یورپ اور جرمنی کی مشہور ترین سیاست دان ہیں‘ لوگ ان سے حقیقتاً محبت کرتے ہیں لہٰذا یہ اگر چاہیں تو یہ مزید دس پندرہ سال اس عہدے پر رہ سکتی ہیں لیکن انھوں نے خود ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ یقیناً کمال ہے لیکن ان کا اصل کمال ان کا سادہ لائف اسٹائل ہے۔
یہ کون لوگ ہیں؟ یہ لوگ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی میراث ہیں‘ رسولؐ ہمارے تھے‘ قرآن ہمارا تھا اور خلفاء راشدین بھی ہمارے تھے لیکن افسوس ان پر عمل ان لوگوں نے کیا۔
اینجلا مرکل نے 18سال پہلے برلن میں ایک فلیٹ خریدا تھا‘ یہ درمیانے سائز کا مڈل کلاس فلیٹ ہے‘ یہ 18سال سے اپنے خاوند جوکم سیور (Joachim Sauer) کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے‘ خاوند یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر ہے‘ یہ کبھی لائم لائٹ میں نہیں آیا‘ روز بس پر یونیورسٹی جاتا ہے اور اسے اگر بیرون ملک سفر کرنا پڑے تو یہ سستی ایئر لائینزپر اکانومی کلاس میں ٹریول کرتا ہے‘ یہ دونوں میاں بیوی 23سال سے اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں‘ ناشتہ سادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر بناتے ہیں۔

برتن بھی دونوں دھوتے ہیں اور اس کے بعد اینجلا مرکل چانسلر کی گاڑی میں آفس چلی جاتی ہیں جب کہ خاوند بس یا پھر چھوٹی ذاتی گاڑی میں یونیورسٹی روانہ ہوجاتا ہے‘ اینجلا مرکل نے 20سال سے نئے قیمتی کپڑے نہیں خریدے‘ وارڈروب میں تیس پرانی جیکٹس‘ کوٹس اور لانگ کورٹس ہیں‘ اس کے پاس ٹراؤزر بھی صرف سفید رنگ کے ہیں اور یہ دنیا کو 18سال سے انھی وائٹ ٹراؤزرز میں نظر آرہی ہے‘ اس کے کوٹ اور جیکٹس بھی تبدیل نہیں ہوئیں‘ اس کے پاس صرف ایک نیکلس ہے ‘ دنیا نے آج تک اس کے گلے میں صرف یہی نیکلس دیکھا‘ ہیئراسٹائل بھی ایک ہی رہا‘ یہ کبھی بال بنوانے کے لیے بھی سیلون نہیں گئی۔

صرف تین شوق ہیں‘ ہائیکنگ‘ فٹ بال کے میچ اور کھانا بنانا‘ اینجلا پروفیشنل شیف ہے‘ اینجلا مرکل نے اقتدار کے 15برسوں میں روزانہ 20 گھنٹے کام کیا‘ یہ صرف چار گھنٹے سوتی ہے تاہم اس کا کہنا ہے میں مزاج کے لحاظ سے اونٹ ہوں‘ میں اپنی نیند اسٹور کر لیتی ہوں‘ چھٹی کا دن آتا ہے تو میں لمبی نیند لے لیتی ہوں جب کہ عام دنوں میں میری نیند صرف چار گھنٹے ہوتی ہے‘ یہ اپنے اسٹاف کو ہر وقت دستیاب رہتی ہیں‘ اسے سحری کے وقت بھی فون کیا جاتا تھا تو یہ فون خود اٹھاتی تھی اور اس کی آواز میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔

لوگ اس کے یکساں ہیئراسٹائل‘ ایک جیسے کپڑے اور ایک نیکلس کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ ہنس کر جواب دیتی ہے ’’میں جرمنی کی چانسلر ہوں‘ فیشن گرل نہیں‘‘ یہ 2008 میں ناروے میں فیشن شو میں مدعو تھی‘ یہ ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ شو میں گئی لیکن پورے ہال میں سب سے سستے کپڑے اس نے پہن رکھے تھے‘ اس کے سوٹ کی مالیت صرف پانچ یورو تھی اور وہ بھی چار سال پرانا تھا جب کہ ویٹرز تک کے ڈریس مہنگے اور ماڈرن تھے مگر اس سستے سوٹ کے باوجود پورے ہال میں آئرن لیڈی صرف ایک ہی تھی اور اس کا نام تھا اینجلا مرکل۔ یہ کپڑوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ کہتی ہے ’’مرد عورتوں کو صرف اور صرف فیشن سمبل سمجھتے ہیں۔

یہ اگر خود چھ چھ ماہ ایک ہی شرٹ‘ پتلون اور کوٹ پہنتے رہیں انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن یہ خواتین کو ہمیشہ نئے اور مہنگے کپڑوں میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ اس کا کہنا ہے ’’ہم اپنے گندے کپڑے رات کو مشین میں ڈالتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت بجلی بھی زیادہ ہوتی ہے اور سستی بھی تاہم مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے مشین کی وجہ سے ہمارے ہمسایوں کی نیند خراب نہ ہوتی ہو لہٰذا میں ایک دن ان کے پاس گئی اور ان سے رات کے وقت مشین چلانے کی باقاعدہ اجازت لی‘‘ اینجلا مرکل کو کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔

روس کے صدر پیوٹن ایک میٹنگ میں انھیں ڈرانے کے لیے اپنا لیبراڈر ساتھ لے آئے‘ اینجلا مرکل نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’پیوٹن مجھے یہ بتانا چاہتے تھے وہ مرد ہیں اور میں عورت‘‘ یہ خیال درست ہو سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے دنیا بھر کے تمام مرد مل کر بھی اس عورت کو کم زور ثابت نہیں کرسکتے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ وہ عورت ہے جس نے ثابت کر دیا عورتیں لوہا بھی ہو سکتی ہیں اور دنیا کی بہترین حکمران بھی۔

اینجلا مرکل ستمبر 2021میں ریٹائر ہو جائے گی‘ ریٹائرمنٹ کے وقت اس کے کل اثاثے ساڑھے گیارہ ملین یورو ہیں اور یہ اس رقم میں برلن میں ڈھنگ کا کوئی مکان تک نہیں خرید سکتی لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ سمجھتی ہے یہ رقم دونوں میاں بیوی کے لیے کافی ہے۔

میں نے جب یہ حقائق پڑھنا اور کھوجنا شروع کیے تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا‘ یہ کون لوگ ہیں اور کیا یہ لوگ دوزخ میں چلے جائیں گے اور ہم ہوس کے پجاری اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے کے باوجود جنتی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی سوچا‘ رسولؐ ہمارے سادہ تھے اور اللہ نے ایمان داری‘ اخلاص اور ان تھک محنت کا حکم ہمیں دیا تھا لیکن محنتی یہ لوگ نکلے‘ اخلاص کے پیکر بھی یہ ہیں‘ ایمان دار بھی یہ اتنے ہیں کہ یہ حکمران ہونے کے باوجود کپڑے دھونے کی مشین بھی ہمسایوں سے پوچھ کر چلاتے ہیں اور یہ 15سال کے اقتدار کے بعد خود ہی کرسی سے اٹھ بھی جاتے ہیں۔

لہٰذا آج ہم پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں‘ ہم دنیا کے مہنگے ترین کپڑے پہن کر جہازوں میں بیٹھ کر اس اینجلا مرکل کے سامنے امداد کا کشکول پھیلا رہے ہیں جس نے پانچ یورو کے 20سال پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور جو گھر سے صبح کے برتن دھوکر آفس آتی ہے اور شام کو اپنے کپڑے خود استری کرتی ہے اور اس کا خاوند بیوی کی 15سالہ چانسلری کے باوجود پروفیسر کا پروفیسر رہتا ہے‘ وہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بنتا اور یہ ہے وہ فرق جس نے آج ہمیں بھکاری اور اینجلا مرکل جیسی لیڈروں کے ملکوں کو سخی بنا دیا‘ یہ ان داتا ہو گئے اور ہم اقوام عالم کے سامنے جھولی پھیلا کر کھڑے ہیں لیکن ہمیں اس کے باوجود شرم نہیں آتی۔

یہ کون لوگ ہیں؟
اینجلا مرکل Angela Merkel
(انگیلا میرکل)
مجھے کبھی ملازم کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘ ہم دو میاں بیوی ہیں‘ فلیٹ چھوٹا ہے‘ مل کر کام کر لیتے ہیں‘ کھانا میں خود بنا لیتی ہوں‘ میرا خاوند رات کو مشین میں کپڑے ڈال دیتا ہے‘ میں صبح انھیں استری کر لیتی ہوں‘ صفائی ہم دونوں مل کر کر لیتے ہیں چناں چہ ہمیں کبھی کک یا ملازم رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی‘‘۔

یہ الفاظ 15 برس تک دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی سربراہ رہنے والی خاتون کے ہیں‘ جی ہاں یہ اینجلا مرکل ہیں‘ یہ 2005سے 2021 تک جرمنی کی مسلسل چانسلر آ رہی ہیں‘ یہ 9 سال سے فوربز میگزین کی موسٹ پاورفل لیڈی ‘ پورے یورپ اور فری ورلڈ کی لیڈر بھی ہیں‘ اینجلا مرکل 1954 میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں‘ والدین کے ساتھ مشرقی جرمنی گئیں‘ 1986 میں کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور ریسرچ سائنس دان کے طور پر کام شروع کر دیا‘ مشرقی جرمنی میں 1989 میں سیاسی بیداری کا عمل شروع ہوا تو یہ سیاست میں آئیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا‘ مختلف حیثیتوں میں کام کرتی رہیں‘ 2002 میں اپوزیشن لیڈر بنیں‘ گرہارڈ شنوڈر کو ہرا کر 2005میں جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں۔

یہ کمال تھا لیکن یہ اتنا بڑا کمال نہیں تھی‘ کمال اس خاتون نے اس کے بعد کیے اور پھران کی لائن لگا دی‘ جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا‘ ملک میں امن‘ سکون اور استحکام آیا اور جرمنی کا معاشی سکہ پوری دنیا میں چلنے لگا‘ یہ مسلسل 15سال چانسلر رہیں‘ یہ مزید بھی رہ سکتی تھیں لیکن انھوں نے 2018 میں اعلان کر دیا ’’میں 2021کے الیکشنز میں حصہ نہیں لوں گی‘ میں سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہوں‘‘ یہ اعلان عجیب تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ دنیا‘ یورپ اور جرمنی کی مشہور ترین سیاست دان ہیں‘ لوگ ان سے حقیقتاً محبت کرتے ہیں لہٰذا یہ اگر چاہیں تو یہ مزید دس پندرہ سال اس عہدے پر رہ سکتی ہیں لیکن انھوں نے خود ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ یقیناً کمال ہے لیکن ان کا اصل کمال ان کا سادہ لائف اسٹائل ہے۔
یہ کون لوگ ہیں؟ یہ لوگ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی میراث ہیں‘ رسولؐ ہمارے تھے‘ قرآن ہمارا تھا اور خلفاء راشدین بھی ہمارے تھے لیکن افسوس ان پر عمل ان لوگوں نے کیا۔
اینجلا مرکل نے 18سال پہلے برلن میں ایک فلیٹ خریدا تھا‘ یہ درمیانے سائز کا مڈل کلاس فلیٹ ہے‘ یہ 18سال سے اپنے خاوند جوکم سیور (Joachim Sauer) کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے‘ خاوند یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر ہے‘ یہ کبھی لائم لائٹ میں نہیں آیا‘ روز بس پر یونیورسٹی جاتا ہے اور اسے اگر بیرون ملک سفر کرنا پڑے تو یہ سستی ایئر لائینزپر اکانومی کلاس میں ٹریول کرتا ہے‘ یہ دونوں میاں بیوی 23سال سے اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں‘ ناشتہ سادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر بناتے ہیں۔

برتن بھی دونوں دھوتے ہیں اور اس کے بعد اینجلا مرکل چانسلر کی گاڑی میں آفس چلی جاتی ہیں جب کہ خاوند بس یا پھر چھوٹی ذاتی گاڑی میں یونیورسٹی روانہ ہوجاتا ہے‘ اینجلا مرکل نے 20سال سے نئے قیمتی کپڑے نہیں خریدے‘ وارڈروب میں تیس پرانی جیکٹس‘ کوٹس اور لانگ کورٹس ہیں‘ اس کے پاس ٹراؤزر بھی صرف سفید رنگ کے ہیں اور یہ دنیا کو 18سال سے انھی وائٹ ٹراؤزرز میں نظر آرہی ہے‘ اس کے کوٹ اور جیکٹس بھی تبدیل نہیں ہوئیں‘ اس کے پاس صرف ایک نیکلس ہے ‘ دنیا نے آج تک اس کے گلے میں صرف یہی نیکلس دیکھا‘ ہیئراسٹائل بھی ایک ہی رہا‘ یہ کبھی بال بنوانے کے لیے بھی سیلون نہیں گئی۔

صرف تین شوق ہیں‘ ہائیکنگ‘ فٹ بال کے میچ اور کھانا بنانا‘ اینجلا پروفیشنل شیف ہے‘ اینجلا مرکل نے اقتدار کے 15برسوں میں روزانہ 20 گھنٹے کام کیا‘ یہ صرف چار گھنٹے سوتی ہے تاہم اس کا کہنا ہے میں مزاج کے لحاظ سے اونٹ ہوں‘ میں اپنی نیند اسٹور کر لیتی ہوں‘ چھٹی کا دن آتا ہے تو میں لمبی نیند لے لیتی ہوں جب کہ عام دنوں میں میری نیند صرف چار گھنٹے ہوتی ہے‘ یہ اپنے اسٹاف کو ہر وقت دستیاب رہتی ہیں‘ اسے سحری کے وقت بھی فون کیا جاتا تھا تو یہ فون خود اٹھاتی تھی اور اس کی آواز میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔

لوگ اس کے یکساں ہیئراسٹائل‘ ایک جیسے کپڑے اور ایک نیکلس کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ ہنس کر جواب دیتی ہے ’’میں جرمنی کی چانسلر ہوں‘ فیشن گرل نہیں‘‘ یہ 2008 میں ناروے میں فیشن شو میں مدعو تھی‘ یہ ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ شو میں گئی لیکن پورے ہال میں سب سے سستے کپڑے اس نے پہن رکھے تھے‘ اس کے سوٹ کی مالیت صرف پانچ یورو تھی اور وہ بھی چار سال پرانا تھا جب کہ ویٹرز تک کے ڈریس مہنگے اور ماڈرن تھے مگر اس سستے سوٹ کے باوجود پورے ہال میں آئرن لیڈی صرف ایک ہی تھی اور اس کا نام تھا اینجلا مرکل۔ یہ کپڑوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ کہتی ہے ’’مرد عورتوں کو صرف اور صرف فیشن سمبل سمجھتے ہیں۔

یہ اگر خود چھ چھ ماہ ایک ہی شرٹ‘ پتلون اور کوٹ پہنتے رہیں انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن یہ خواتین کو ہمیشہ نئے اور مہنگے کپڑوں میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ اس کا کہنا ہے ’’ہم اپنے گندے کپڑے رات کو مشین میں ڈالتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت بجلی بھی زیادہ ہوتی ہے اور سستی بھی تاہم مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے مشین کی وجہ سے ہمارے ہمسایوں کی نیند خراب نہ ہوتی ہو لہٰذا میں ایک دن ان کے پاس گئی اور ان سے رات کے وقت مشین چلانے کی باقاعدہ اجازت لی‘‘ اینجلا مرکل کو کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔

روس کے صدر پیوٹن ایک میٹنگ میں انھیں ڈرانے کے لیے اپنا لیبراڈر ساتھ لے آئے‘ اینجلا مرکل نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’پیوٹن مجھے یہ بتانا چاہتے تھے وہ مرد ہیں اور میں عورت‘‘ یہ خیال درست ہو سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے دنیا بھر کے تمام مرد مل کر بھی اس عورت کو کم زور ثابت نہیں کرسکتے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ وہ عورت ہے جس نے ثابت کر دیا عورتیں لوہا بھی ہو سکتی ہیں اور دنیا کی بہترین حکمران بھی۔

اینجلا مرکل ستمبر 2021میں ریٹائر ہو جائے گی‘ ریٹائرمنٹ کے وقت اس کے کل اثاثے ساڑھے گیارہ ملین یورو ہیں اور یہ اس رقم میں برلن میں ڈھنگ کا کوئی مکان تک نہیں خرید سکتی لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ سمجھتی ہے یہ رقم دونوں میاں بیوی کے لیے کافی ہے۔

میں نے جب یہ حقائق پڑھنا اور کھوجنا شروع کیے تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا‘ یہ کون لوگ ہیں اور کیا یہ لوگ دوزخ میں چلے جائیں گے اور ہم ہوس کے پجاری اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے کے باوجود جنتی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی سوچا‘ رسولؐ ہمارے سادہ تھے اور اللہ نے ایمان داری‘ اخلاص اور ان تھک محنت کا حکم ہمیں دیا تھا لیکن محنتی یہ لوگ نکلے‘ اخلاص کے پیکر بھی یہ ہیں‘ ایمان دار بھی یہ اتنے ہیں کہ یہ حکمران ہونے کے باوجود کپڑے دھونے کی مشین بھی ہمسایوں سے پوچھ کر چلاتے ہیں اور یہ 15سال کے اقتدار کے بعد خود ہی کرسی سے اٹھ بھی جاتے ہیں۔

لہٰذا آج ہم پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں‘ ہم دنیا کے مہنگے ترین کپڑے پہن کر جہازوں میں بیٹھ کر اس اینجلا مرکل کے سامنے امداد کا کشکول پھیلا رہے ہیں جس نے پانچ یورو کے 20سال پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور جو گھر سے صبح کے برتن دھوکر آفس آتی ہے اور شام کو اپنے کپڑے خود استری کرتی ہے اور اس کا خاوند بیوی کی 15سالہ چانسلری کے باوجود پروفیسر کا پروفیسر رہتا ہے‘ وہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بنتا اور یہ ہے وہ فرق جس نے آج ہمیں بھکاری اور اینجلا مرکل جیسی لیڈروں کے ملکوں کو سخی بنا دیا‘ یہ ان داتا ہو گئے اور ہم اقوام عالم کے سامنے جھولی پھیلا کر کھڑے ہیں لیکن ہمیں اس کے باوجود شرم نہیں آتی۔

Kaswa Explorers

Asif Riaz Butt Kaswa🐪Explorers Tourist Association Pakistan. ☎03336142773 📞03006365122 Tourist Guide Tourist Helper

Email : 📩 [email protected]

YouTube :💊 https://www.youtube.com/channel/UCUS0...

page :📌 https://www.facebook.com/KaswaExplorers/

Videos (show all)

Safari Tourist Train Between Golra and Attock. گولڑہ اور اٹک کے تاریخی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ٹرین سفاری۔
Auto Piolet خودکار نظام
Golden Beach of Kund Maleer    Balochistan, Pakistan.
FOREIGN VISITORS, TOURISTS & BIKERS ATTABAD LAKE HUNZA, PAKISTAN.
Attabad Lake Tunnels
Jewel of Nature, Crossing Deosai on Bike
Soon Valley On Bike
Cultural and Traditional Khatak Dance, Siriki Jhoomar, Thal Desert Jeep & Bike Rally Muzaffargarh.
Saraiki Jhumar, Khattak Dance, Thal Desert Rally 2020, 2021, Live Day 3 Final

Location

Telephone

Address


Sarwar Abad Afzal Nagar Jhung Road Muzaffargarh.
Muzaffargarh
34200, PUNJAB, PAKISTAN.
Other Muzaffargarh travel agencies (show all)
Gateway Tourism Pvt Ltd. Gateway Tourism Pvt Ltd.
ALI PUR ROAD ,ROHILLAN WALI,NEAR NOORI EID GAH
Muzaffargarh

Hajj & Umrah , Visit Visa , Air Ticket, Menpower

Chaudhry Goods Transport Company Chaudhry Goods Transport Company
Chowk Sarwar Shaheed
Muzaffargarh, 34030

Chaudhry Goods Transport Company chowk sarwar shaheed

Malik Khalid Bashir Malik Khalid Bashir
Muzaffargarh

Al-Rehman Air Travels Al-Rehman Air Travels
Near Bank Al-Falah, Multan Road, Muzaffar Garh
Muzaffargarh, 34200

Al-Rehman Air Travels offer Different Umrah Packages and it also help in searching the Drivers Jobs and other technical jobs in Sudia Arabia and UAE. OUR MOTTO IS "WE BELIEVE IN SERVICE."

Alriaz Travels and tours Alriaz Travels and tours
Shajmal Chowk Khangarh Muzaffar Garh
Muzaffargarh

AL-Riaz Travels & Tours is recognized for its excellent work and satisfactory services especially for Umrah, and Air Ticketing.

IMRAN VISA IMRAN VISA
Street NO.5
Muzaffargarh, 34200

VISA provider .company

Noor Global Travel & Tours Noor Global Travel & Tours
Purani Chunghi Near Railway Phathak, Jhang Road
Muzaffargarh, 6400

We are offering Hajj,Ummrah,Study,Business, Work Permit,Visit and immigration visas around the world. Contact us with complete trust.