United Pakistan Tours

If you can't find a suitable package for your request?Just let us know all your requirement we will tailor-make a special package for you!+923335122224

If yopu can't find a suitable package for your request?Just let us know all your requirement we will tailor-make a special package for you!+923335122224 Tourism in Pakistan has been stated as being the tourism industry's next big thing. Pakistan with it's diverse cultures, people and landscapes has attracted 0.7 million tourists to the country. Almost double to that of a decade ago.The country's attraction range from the ruin of civilization such as Mohenjo-daro, Harappa and Taxila, to the Himalayan hill stations, which attract those interested in winter sports. Pakistan is home to several mountain peaks over 7000m, which attracts adventurers and mountaineers from around the world, especially K2. The north part of Pakistan has many old fortresses, ancient architecture and the Hunza and Chitral valley, home to small pre-Islamic Animist Kalasha community claiming descent from Alexander the Great. The romances of the North West Frontier Province is timeless and legend. Punjab province has the site of Alexander's battle on the Jhelum River and the historic city Lahore, Pakistan's cultural capital, with many examples of Mughal architecture such as Badshahi Masjid, Shalimar Gardens, Tomb of Jahangir and the Lahore Fort. Before the Global economic crisis Pakistan received more than 500,000 tourists annually

Operating as usual

SwatNews.com

معروف کرکٹر شاہد افریدی بھی وادی سوات کا دیوانہ نکلا , مالم جبہ میں چیئرلفٹ سے بھی خوب مزے لیئے ، ویڈیو میں دیکھئے

United Pakistan Tours's cover photo

Photos from United Pakistan Tours's post

ABBOTABAD

EXPLORE PAKISTAN WITH UNITED PAKISTAN TOURS

UNITED PAKISTAN TOURS

EXPLORE PAKISTAN WITH UNITED PAKISTAN TOURS

youtube.com

Snowy Road To Nathia Gali | Murree Snowfall 2018 | Drone in Snow Fall 4K | Amazing Pakistan

youtube.com Do Subscribe Like and Share to Fuel my Upcoming Videos in 2018 page : https://web.facebook.com/aliahmedtraveldiaries/ Music : Most Epic Music Ever- ...

Neelum valley

Explore fabolus Pakistan With us call 03335122224

Untitled Album

Untitled Album

United Pakistan Tours's cover photo

Untitled Album

Untitled Album

Untitled Album

Untitled Album

Explore Pakistan with UNITED PAKISTAN TOURS

[02/21/19]   Visit Pakistan with.United Pakistan tours.

On the way of fairy meadows

Snow fall in shograan.
2 November,2018.

Pak china border

Water crystals

Nanga Parbat

Photos from United Pakistan Tours's post

Three nights four days 11-14 august
Trip to Neelam Valley (Kashmir):

August 11
Day 1
Departure from isb
Short stay at kohala view point.
Drive to Muzafarabad City
Short stay at muzafarabad
Drive to salkhala valley near Kundal Shahi largest bazar of neelum vally.
Overnight at salkhala .

August 12
Day2
Drive to Sharda in the morning and then to kail
After Arrival to kail, Hiking to arang kail 45min in rainforest kail to aur arang kail drive back to sharda night stay in Sharda.

August 13
Day 3
Short vsisit to shardaa university
Drive to karen after half day excursion of
upper Karen LOC drive back to salkhala valley evening free for individual activities.
Overnight in salkhala valley.

August 14
Day 4
Driver back to Islamabad.
End of tour.

Tour charges includes:
Transport van or coaster.
Fuel and toll taxes
Accommodation .quad Sharing basis
Incase of couple sharing 1000 per person would be charged extra for separate room

NOTE: Any type of food items/meals are not included.

Tour cost.PKR-7000/- per person
For further details contact
03335122224
03455040087

Rawalakot AJK

[06/26/18]   "ناران.. سیاحوں کا قتلِ عام" 🔥🙏🎄
از قلم مستنصر حُسین تارڑ
اقتباس سفرنامہ حراموش ناقابلِ فراموش
عکاسی : وجاہت ملک
نوٹ:- مری کو رونے والے ذرا یہ بھی پڑھ لیں، شکریہ۔

تب ہم ناران پہنچے.. نہ پہنچتے تو اچھا تھا۔
ناران پر سینکڑوں یا شاید ہزاروں جیپوں کے ڈیزل کا دھواں اگلتے زہرآلود بادل تھے، جیسے یہاں ایک ایٹم بم گرا دیا ہو..

مَیں جانتا تھا کہ کنہار کے پُلوں تلے وقت کے بہت پانی بہہ چکے.. اُن کی جگہ نئے پانی شور کرتے ہیں.. اور یہ کیسی خام خیالی تھی کہ ہم ناران میں داخل ہوئے.. تو وہاں 1955ء کا وہ ناران نہ تھا جو سرِ شام تاریکی میں ڈوب جاتا تھا.. دریا کنارے انگریزوں کے زمانے کا ایک یوتھ ہوسٹل تھا جہاں ایک شَب ہم نے ڈنر کیا تھا.. کنہار کنارے گوجروں کے چند جھونپڑے تھے.. راتوں کو بھیڑیے چاند کی جانب تھوتھنیاں اٹھائے غراتے تھے اور کبھی کبھار بلندیوں سے کوئی سیاہ ریچھ ناران کی تاریکی میں اتر آتا تھا۔

اور اب 2016ء میں..

رات کے اِس پہر بھی چکاچوند روشنیاں ہیں، ہماری کوچ کے گرد.. سفید خیموں کی عارضی بستیاں آباد ہیں، رونقیں اور شور ہے.. عارضی دوکانیں ہیں، کھوکھے اور ہوٹل ہیں اور بھیڑیے اب بھی موجود ہیں.. وہ ہماری کوچ کے شیشوں پر دستک دیتے ہیں.. کھڑکی کے شیشے پر ٹھونگیں مارتے ہیں..

"صاحب، ناران کے سب ہوٹل فُل ہیں، آگے نہ جاؤ.. صرف دس ہزار میں ایک خیمہ.. تین چارپائیاں اور غسل کا انتظام دریائے کنہار کے کنارے.. روسٹ مُرغی ملے گا.. صرف 1500 سو میں.. آگے کیوں جاتے ہو.."

یہ ناران نہ تھا.. سیاحوں کا قتلِ عام تھا..

یہ مقامی چرواہے اور گوجر.. سیاحوں کی سنہری بطخ کو ہلاک کر کے اُس کے پیٹ میں جتنے بھی سونے کے انڈے تھے اُنہیں حاصل کرنا چاہتے تھے.. ناران کے بازاروں اور کنہار کے پُل پر سینکڑوں جیپیں اپنا زہرآلود دھواں اُگل رہی تھیں اور اُس دھویں میں سینکڑوں مُردہ مرغ روسٹ ہو رہے تھے جنہیں لاہور، کراچی اور سندھ سے آنے والے سیاح نہایت رغبت سے نوش کرتے چلے جاتے تھے..

ناران کے بازار میں جانے کہاں سے آنے والی لڑکیاں تنگ جینوں میں پھنسی میڈونا اور مائیکل جیکسن کے گیت گاتی لٹکتی جاتی تھیں، گرم جلیبیاں اور پکوڑے کھاتی شہوت بھرے انداز میں ناران کی شَب میں غل غپاڑہ کرتی تھیں..

کیا اِن منظروں نے مجھے دُکھ دِیا؟
نہیں.. مجھے اِس عارضی حیات کے ہر لمحے میں سے مسرت کشید کرنے والے لوگ پسند ہیں۔

ہم تو اپنے زمانوں میں گھٹ گھٹ کر مرتے رہے، خوشی سے اجتناب کرتے رہے اور اگر آج کے لوگ بے دریغ زندگی کی مسرتوں سے بے شک چیختے چلاتے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو مَیں اُن کو مطعون نہیں کرتا بلکہ ایک حسد میں مبتلا ہوتا ہوں۔

پی-ٹی-ڈی-سی موٹل ناران..
مَیں تادمِ تحریر پی-ٹی-ڈی-سی کے بورڈ اوف گورنرز کا ایک ممبر ہوں اگرچہ مَیں نے اپنی اِس پوزیشن کو کبھی ایکسپلائیٹ نہیں کیا.. شوگراں میں مقیم شیرستان نے ناران میں ہمارا بندوبست کروا دیا تھا..

موٹل کے مہربان منیجر اصغر نے ہمارے کمروں، بلکہ کمریوں کے سامنے الاؤ روشن کر دیا۔ جلا الاؤ تو داستان بُھول گئے۔ کسی بھی سرد شَب میں روشن ہونے والا الاؤ ایک بھڑکتا ہوا معجزہ ہوتا ہے۔ اس کے گرد بیٹھنے والے کوہ نوردوں کے چہرے بھی اُس کی آگ میں نمایاں ہو کر لمحہء موجود سے کہیں دور ماضی کے سرابوں کی تصویر ہونے لگتے ہیں۔ گئے زمانوں کی سنہری اور سیاہ یادیں اُن کے چہروں پر رقم ہونے لگتی ہیں۔ اور اگر آپ اُن میں سے کسی کے چہرے پر اپنی آنکھیں مرکوز کر دیں تو اُس کی گزشتہ حیات کے ورق خود بخود پلٹتے جاتے ہیں، یوں الاؤ کے گرد بیٹھنے والا ہر چہرا ایک کتاب ہوتا ہے (فیس بُک سمجھ لیں)۔

الاؤ سے پرے ناران کے بازار میں کسی نوتعمیر شدہ ہوٹل کی کئی منزلہ بلند عمارت جو گزر چکے زمانوں میں ہریاول اور آبشاری حسن کی ایک کنواری وادی ہوا کرتی تھی، وہ عمارت اُس وادی کی کنوارگی میں چھید کرتی اُسے بے توقیر کرتی تھی۔

ناران اول تو مت آئیے، اور اگر آئیے تو بال بچوں سمیت نہ آئیے کہ یہاں مَیں نے رہائش کے متلاشی خاندانوں کو خوب ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ہے.. اور اگر بہرطور آنا ہے تو کسی وعدے کے پکے ہوٹل میں بکنگ کروا کے ادھر کا رخ کیجیے۔ ایڈوانس بکنگ کے باوجود مَیں نے دیکھا ہے کہ ناران میں آمد پر ہوٹل کی انتظامیہ یا تو منحرف ہو گئی یا پھر دوگنے کرائے کا مطالبہ کر دیا۔ یقیناً ناران میں کچھ ایمان والے بھی ہیں، بے دید اور لالچی نہیں ہیں مگر ذرا کم کم ہیں، شاید ہر کسی کو نظر نہ آئیں۔ بلوچستان سے آنے والے تین نوجوانوں نے ناران سے ذرا فاصلے پر دریائے کنہار کے کنارے اپنا خیمہ نصب کیا تو فوری طور پر کچھ حضرات نازل ہو گئے.. یہ زمین ہماری ملکیت ہے.. کرایہ ادا کرو یا پھر ہمارے خیمے میں رات گزارو.. صرف پانچ ہزار روپے میں۔
•••
#Tarar #Naran #Kaghan

[06/25/18]   Its Best Time to Visit Naraan MAtlab Zaroori NAiii HAii PAr Maan Lo tu Behtar HAiii

[06/15/18]   تمام اہل اسلام کو آخری سحری،2018 جمعۃالوداع اور
عید سعید کی آمد آمد مبارک ھو

soundcloud.com

Aao Huzoor Tumko - Jonita Gandhi

ٹریول گائیڈ : میرانجانی..💃🔥
تحریر : مُسافرِشَب`
عکاسی : مُسافرِشَب ، علی کامی ، سلیم جانی
نشرِ مکرر کے طور پر چند تحریروں کا کمبائنڈ اقتباس

آؤ حضُور تُم کو ستاروں میں لے چلُوں
دل جُھومے ایسی بہاروں میں لے چلُوں
حضور، آؤ...

میرانجانی ایبٹ آباد کا پہاڑ ہے. میرانجانی ٹاپ سے مغربی جانب نیچے نظر آتے ایبٹ آباد شہر میں گھروں کی چھتیں لشکارے مارتی ہیں.. پتا نہیں کیوں. سرد موسموں میں ایبٹ آباد سے میرانجانی ایک راکاپوشی کی شبیہہ دیتی ہے۔ اور پھر میرانجانی ٹاپ پر دنیا کی دوسری خوبصورت ترین شام کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایوبیہ نیشنل پارک 1984 میں وجود میں آیا اور 1998 میں اِس کی توسیع ہوئی۔ یہاں پارک سے مراد جھولوں والا پارک نہیں بلکہ وہ پارک ہے جس میں جنگلی و نباتاتی حیات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مزاح نگاری کی بات یہ ہے کہ جس مخلوق سے خطرہ ہے وہی تحفظ کی بات کرتی ہے. یہ پارک صوبہ سرحد یا خیبر کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے.. اور ایبٹ آباد تخت ہزارا ہے کیونکہ ہزارا ریجن کا صدرمقام ہے۔ سنا ہے ایک رانجھا ایبٹ آباد میں بستا ہے مگر نظر نہیں آتا۔

جو پہاڑ اِس پارک میں آتے ہیں.. بہت بلند ہیں.. بلکہ پورے ضلع ایبٹ کے بلند ترین پہاڑ یہیں واقع ہیں جن میں مکشپوری (9،200 فٹ) اور زیرِ توجہ میرانجانی (9،816 فٹ) شامل ہیں. یہ دو پہاڑ جو بلند لگتے ہیں، اصل میں عظیم کوہِ ہمالیہ کی مغربی زیریں پہاڑیوں کو کہتے ہیں. فصیلِ کشورِ ہندوستاں (اور پاکستاں) ہمالیہ کے نانگاپربت، شاہ گوری، ایورسٹ، شیشہ پنگما، اناپورنا، کچنگنگا، اور گیشبروم جیسے 26 ہزار فٹ سے بلند پروفیشنل پہاڑوں کے سامنے ایوبیہ نیشنل پارک کے یہ پہاڑ یقیناً ننھی منی دو پہاڑیاں ہی ہیں، گول مٹول سی، باذوق سی... مگر میرے جیسے بے وقعت انسان.. جسے چِیڑ کے مہکتے بہکاتے جنگلوں میں رات ہو جانا اچھا لگتا ہے.. کے سامنے مکشپوری اور میرانجانی بھی عظیم سربفلک پہاڑ ہیں. ایوبیہ، ڈونگاگلی، نتھیاگلی اور خانس پور جیسے ٹاؤن اِس نیشنل پارک میں آتے ہیں.

اِس پارک میں چِیڑ، صنوبر، فَر، دیودار، آک اور بلندیوں کے دوسرے سرد مزاج کے حامل مگر عشق کی گرمی میں سُلگا دینے پر قادر درخت موجود ہیں.

ایک بار سرد موسموں میں میرانجانی ٹاپ کو سر کرنے کا موقع ملا. موسم دھند سے خمار آلود تھا.. بقول کسی بزرگ کے، گوڈے گوڈے برف تھی.. اگر برف زیادہ بلند ہو جاتی تو قُلفی جم جاتی، بآسانی۔

میرانجانی ٹریک اِس علاقے کے دوسرے نارمل ٹریکس کے مقابلے میں کافی طویل اور ہر لمحہ بڑھتی بلندی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار کرتا ہے.

مجھے یاد ہے کہ ایک مہم پر، دورانِ ٹریک، امریکہ سے آئے ہوئے میرے دوست ناصر صاحب نے کہا تھا:

"عشق، منزل نہیں.. تلاشِ منزل میں مبتلا رہنے کا نام ہے. جس کو محبوب مل گیا، سمجھو اُس سے محبوب گُم ہو گیا اور اُس کا راستہ کھوٹا ہو گیا."

پھر اُنہوں نے کہا... "اِس کائنات میں ہر شے.. ایک ہی شے ہے.. ایک ہی ہے.." تو مجھے اُن کی باتوں پر حال چڑھنے لگا.. سکراۃُ العشق طاری ہونے لگا تھا.. مَیں اور میرانجانی، ایک ہی بدن ہو گئے تھے۔

برسبیلِ تذکرہ، اگر کسی وجہ سے جنگلوں میں رات ہو جائے تو مسافرِ شب کو شارٹ کٹ کے چکروں میں ٹریک کو نہیں چھوڑنا چاہیے.. دوسرا یہ کہ باتوں، روشنی اور موسیقی سے اپنی موجودگی کو ظاہر کرتے رہنا چاہیے. ممکن ہے کہ وسوسہ پیدا ہو "تاکہ درندوں کو پتا لگتا رہے کہ اُن کے ڈِنر اِس وقت کہاں ہیں؟"

نِدا ہوتی ہے.. "احتیاطی تدابیر سے جانور خود دُور رہتے ہیں۔ یہاں صرف تیندوا پایا جاتا ہے۔ دعا کیجیے کہ اگر وہ سامنے آ جائے تو اُس وقت اُسے بھوک نہ لگی ہو، تیندوی نے روٹی کھوا کر بھیجا ہو. اگر کوئی اندھیرے کے باعث درندوں سے خطرناک حد تک قریب ہو جائے تو تب وہ اٹیک کر دیتے ہیں.. اور مزے سے تناول فرماتے ہیں.."

نتھیاگلی سے اوپر گورنر ہاؤس کی جانب بلند ہوتی سڑک کو اختیار کرنے کے بعد.. اور لکڑ کے گِرجا کو کراس کرنے کے بعد پہلے دوراہے سے دائیں جانب نیچے جاتی سڑک پر مڑ جاتے ہیں. اِس سڑک پر بے دریغ میرانجانی چوٹی نظر آتی ہے. کچھ دور ایک اور دوراہے پر مزید نیچے جانے والی سڑک کو اگنور کر کے سیدھا جانے والی سڑک پر چلتے جاتے ہیں. یوں نتھیاگلی سے 3 کلومیٹر دُور اور دو تین سو فٹ گہرائی میں آپ میرانجانی ٹریک کے آغاز میں پہنچ جاتے ہیں...

میرانجانی ٹریک 7 کلومیٹر لمبا ہے اور ہر قدم پر بلندی بڑھاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ڈھائی ہزار فٹ بلندی طے کرنی پڑ جاتی ہے. یہ مکشپوری پر پکنک منانے والے شرارتی لڑکے لڑکیوں کے لیے ہرگز نہیں، صرف پہاڑوں کی محبت میں مبتلا مجنوؤں کے لیے ہے جن کا جنوں ہی اُن کو چوٹی تک پہنچا دینے کے کام آتا ہے. یہ باشعور ٹریک اپنی مرضی کے عاشقین کو قبول کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ٹریک نہایت صاف ستھری حالت میں موجود ہے.. اِس لیے نہیں کہ سیاح اِس کو صاف رکھتے ہیں.. بلکہ اِس لیے کہ گند ڈالنے والے سیاح اِس ٹریک کے پتھروں پر قدم جمانے کی جرات ہی نہیں رکھتے.

ٹریک کے یہ پتھر....

~ کہکشاں ہے پتھروں سے اٹا راستہ
~ بس راہگزر محبوب کی ہونی چاہیے

ٹریک پر اگر گرمی اور دھوپ ہوں تو جنگل خوشبوئیں پھیلانی شروع کر دیتے ہیں. چیڑ کے درخت کا سیال مادہ بروزہ کہلاتا ہے جو ہلکی سی گرمی میں شدید مشک آور ہو جاتا ہے...... اور عشق مُشک کب چُھپتے ہیں، لہذا اِن کو چھپانے کی کوشش ہمیشہ رائیگاں جاتی ہے.

اِس ٹریک کے تین حصے ہیں:-

پہلا حصہ سٹارٹنگ پوائنٹ سے شروع ہو کر دو ڈھائی کلومیٹر دُور بلندی پر ایک قدرتی تالاب تک جاتا ہے. یہ نسبتاً آسان حصہ ہے. یہیں کھڑے ہو کر میرانجانی پہاڑ یوں نظر آتا ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ آپ ٹاپ تک پہنچ سکتے ہیں.

دوسرا حصہ تالاب سے شروع ہو کر مزید ڈھائی کلومیٹر دور میرانجانی پہاڑ کے ساتھ جا لگتا ہے. یہ کافی مشکل حصہ ہے اور پٹھے، اُلو کے پٹھے بن جاتے ہیں.

تیسرا حصہ آگے نہیں بڑھتا، براہِ راست ایک ڈیڑھ کلومیٹر میں ایک ہزار فٹ اوپر چڑھاتا ہے. یہیں پٹھے.. جو الو کے پٹھوں میں کنورٹ ہو چکے ہوتے ہیں.. باقاعدہ چِیں چِیں کر کے شوروغل مچاتے ہیں.

اِس آخری حصے کی بلندی پر آکسیجن کی کمی محسوس ہونا شروع ہوتی ہے اور سموکر احباب کا لائیٹر ہنسنا شروع کر دیتا ہے جیسے اُسے جلایا نہ جا رہا ہو، محض گدگدی کی جا رہی ہو.

ٹریک آخرکار ٹاپ کے نسبتاً کم بلند مشرقی حصے پر لے جاتا ہے جہاں مزید 8 کلومیٹر دور ڈگری بنگلہ کے لیے سفر جاری رکھا جاتا ہے. یہیں "کُناں میڈوز" کا دلفریب نظارہ نظر آتا ہے جہاں تک ایک سے دو گھنٹوں کی مزید ٹریکنگ کے بعد پہنچا جا سکتا ہے..... مگر پہلے اپنے پٹھوں سے اجازت طلب کیجیے.

اسی جگہ سے اوپر کی جانب بلند ہوتی پگڈنڈی کو اختیار کر کے چلتے جاتے ہیں اور ٹاپ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں درخت نہیں ہیں، پھولوں بھری گھاس کا میدان ہے. ٹاپ پر پہنچ کر بھی آدھا کلومیٹر مغربی سمت چلتے جاتے ہیں، تب مزاحیہ کھمبے تک پہنچ جاتے ہیں جو میرانجانی ٹاپ کی پہچان ہے.

ٹاپ پر دھوپ ہو تو وہ عام حالات کے مقابلے میں شدید تر ہوتی ہے کیونکہ اُس میں الٹرا وائیلٹ ریڈئیشن باریک باریک کٹی ہوتی ہے..

اگر آپ کو ایبٹ آباد پسند ہے تو وہ یہاں سے ایسے نظر آتا ہے جیسے شہزادہ سیف الملوک کو لمبے سفروں کے بعد شاہ پری بدیع الجمال کا چہرا نظر آیا تھا اور میاں محمد بخش نے اُس ایک نظر کی شان میں 18 غزلیں کہہ دیں۔ محبوب شہر کے رہنے والے معمول کے مطابق اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں.. اور اُنہیں یہ خیال تک نہیں گزرتا ہے کہ دور پار نشیبی علاقوں میں کوئی ہے جو اُس شہر کی ہواؤں کا انتظار کرتا رہتا ہے.. وہاں کے نلکوں میں سے نکلتا پانی اُس کے لیے آبِ حیات ہے. ہو سکتا ہے، تیرا علاقہ بھی کسی کے لیے یہی مقام رکھتا ہو، مگر تُم وہاں معمول کی زندگی گزارتے ہو..

اگر موسم اجازت دے تو 26 ڈگری شمالاً مشرقاً طُورِ سینا.. شہنشاہِ کوہستاں نانگاپربت کا دیدار ممکن ہوتا ہے۔ شہنشاہ آپ کو اپنا دیامیر فیس اور رائیکوٹ فیس دکھاتا ہے۔ اگر دوربین ہمراہ ہو تو اُس میں آپ فوراً فیئری میڈوز پہنچ جاتے ہیں۔

ٹاپ سے ایبٹ آباد کے علاوہ ایبٹ آباد نظر آتا ہے.. جس سمت میں بھی دیکھیں ایبٹ آباد نظر آتا ہے.. ایک روشن چھت نظر آتی ہے. ہوش آنے پر شہنشاہ نانگاپربت بھی نظر آتا ہے۔ جنوبی جانب مکشپوری ٹاپ اور مری کا سبز گنبد نظر آتا ہے. ذرا سا جنوب مغربی جانب مارگلہ ہلز کی ٹلاچارونی نظر آتی ہے کیونکہ ٹلاچارونی سے میرانجانی بھی تو نظر آتی ہے. مشرقی جانب دریائے جہلم اور کشمیر کے برفپوش پہاڑ نظر آتے ہیں. کشمیر کی گنگا چوٹی تو یہاں مسکراتی بھی ہے۔ ایک جانب ٹھنڈیانی کے ٹی-وی بوسٹرز بھی نشریات جاری کرتے ہیں. باقی مناظر میں آپ اپنی ٹیم پر طاری ہوتی کیفیات دیکھ لیں۔

اپنی مہم میں مزید کچھ نیا کرنے کے لیے کھمبے پر چڑھ لیں۔ یاد رہے کہ بعض اوقات کھمبا لرزتا بھی ہے اور اسی تناسب سے کلائمبر کی ٹانگیں بھی. جہاں گردوں کے لیے شاید یہ ایک انکشاف ہو کہ کھمبے کی ٹاپ سے جو منظر نظر آتا ہے، وہ وہی ہے جو ویسے ہی میرانجانی ٹاپ سے نظر آتا ہے.. لہذا خوامخواہ خیبر پختونخواہ میں اپنی جان کو مزید عذاب میں نہ ڈالیے.

ایک مہم کے دوران تین افراد پر مشتمل ایک اور ٹیم آئی. ایک صاحب کے حلیہ کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آفس میں میٹنگ اٹینڈ کرنے کے بعد جونہی کانفرنس ھال سے باہر نکلے تو براہِ راست کوانٹم ٹیلی پورٹ ہو کر میرانجانی ٹاپ پر آ موجود ہوئے. وہ فون پر کسی خاتون کو کہہ رہے تھے کہ "بوت بوت مشکل چڑھائی ہے.... عورتاں نہیں آ سکدیاں... آہو."

میری ٹیم کی ممبر فزکس ڈاکٹر عالیہ رحمان خان جو اُن کے پیچھے تھیں، اُنہوں نے انگریزی میں اُن فارمل ڈریسنگ والے صاحب سے کچھ یوں کہا جس کی سلیس پنجابی بنتی ہے.. "چَل چُوٹھیا......"

اگر ٹاپ پر شام ہو جائے تو.. یا آپ کیمپنگ کی نیت سے آئے ہوں تو.. یہ دنیا کی دوسری خوبصورت ترین شام ہوتی ہے۔ اور پھر تاریکی ہونے پر ہرسو کائنات طاری ہو جاتی ہے۔

آؤ حضُور تُم کو ستاروں میں لے چلُوں
دل جُھومے ایسی بہاروں میں لے چلُوں
حضور، آؤ تو سہی...

واپسی پر موسم بدل جاتے ہیں، لہذا ٹاپ پر پہنچ کر آپ کے تجربات مکمل نہیں ہوتے۔ ممکن ہے کہ واپسی آتے ہوئے گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش شروع ہو جائے.. آپ کے اندر بھی۔ ممکن ہے کہ چیڑ کے درخت خوشبوؤں کے علاوہ ترنم آوازوں میں بھی گفتگو شروع کر دیں جنہیں ہم "وِسپرنگ پائنز" کہتے ہیں.

اگر اسی شب اسلام آباد واپسی ہو رہی ہو تو آپ مری کو اک کائنات نما دیکھ سکتے ہیں۔ روشنیاں پورے پہاڑ کو روشن کر دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہیرے جواہرات کا پہاڑ ہو۔ یا یونانی جزیرہ سینٹورینی ہو۔ یہ منظر دیکھنے کے لیے مری ایکسپریس وے کا راستہ اختیار کیجیے۔

معلوم نہیں پہلی خوبصورت ترین شام کون سی ہے...... یا شاید ہر شخص کی اپنی اپنی پہلی خوبصورت ترین شام ہوتی ہے جو دنیا کی خوبصورت ترین شام ہوتی ہے اور اُسے راز رکھنا ہوتا ہے۔

آؤ حضُور تُم کو ستاروں میں لے چلُوں
دل جُھومے ایسی بہاروں میں لے چلُوں
حضور، بس اب آ جاؤ..

🎵SoundTrek
https://soundcloud.com/devi28/aao-huzoor-tumko
•••
#Miranjani #KPK #Abbottabad

soundcloud.com Listen to Aao Huzoor Tumko - Jonita Gandhi by Devika Mondal Ðëvî #np on #SoundCloud

[05/04/18]   پاکستان کی حسین ترین وادی کیلا ش میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار ”چلم جوش“ شروع ہونے والا ہے۔یہ تہوار ہر سال موسم بہار کی آمد پر13مئی سے 16مئی تک منایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے سب سے رنگارنگ اور مشہورتہوارکی حیثیت سے سب سے زیادہ شہرت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وہ تہوار ہے جو وادی کیلاش کی روز مرہ زندگی اور وہاں کے انوکھے رہن سہن کو دنیا بھر میں شہرت بخشنے کابڑا سبب ہے۔

پاکستان کے برفیلے علاقے چترال کے قریب واقع کیلاش کا علاقہ تین وادیوں ، ”رمبور“، ”بریر“ اور” بمبوریت“ پر مشتمل ہے ۔دراصل یہ پاکستان کا انتہائی شمال مغربی حصہ ہے۔ موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوش کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ”چلم جوشٹ“ بھی کہتے ہیں۔

یہاں کے سادہ لوح افرادآج بھی صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرانی روایات کو مذہب کی طرح اپنایا ہواہے۔اسی سبب سیاحوں کے لئے ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ انتہائی دلچسی کا باعث ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو سیاحوں کو چترال اور خاص کر وادی کیلاش کی سیر کی دعوت دیتی ہیں۔

چلم جوش جشن بہار اں کی تقریب ہے ۔ مقامی افراد اس تہوار کیلئے کافی پہلے سے اوربہت سی تیاریاں کرکے رکھتے ہیں۔ مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہوتے یہاں ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور چار سو خوشبوں کا ڈیرہ پڑجاتا ہے۔ ندیوں اور دریاؤں میں پگھلتی ہوئی برف کا شفاف پانی موج زن ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر سبز جنگلات کے بیچوں بیچ برفانی شیشوں سے روشنی منعکس ہوتی ہے ۔ یہ منظر علاقے کو نہایت دلکش اور قابل دید بنا دیتا ہے۔

چلم جوش کو وادی میں مذہبی تقریب کا درجہ حاصل ہے۔ اس دن خاص اہتمام کے ساتھ کھانے تیار کئے جاتے ہیں ۔ تہوار کے پہلے روزآپس میں بکری کا دودھ بانٹا جاتا ہے ہے۔ علاقے کے بزرگ لوگ ہی یہ دودھ اکٹھا کرسکتے ہیں ۔ پھر اس دودھ کو مقررہ مقام پر لایا جا تا ہے ۔ عام افراد دودھ کے حصول کیلئے قطاروں میں لگ کر اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ دودھ ایک تبرک سمجھا جاتا ہے لہذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک گھونٹ دودھ اسے ضرور ملے۔

سب سے پہلے نو مولود بچوں کو دودھ پلایاجاتا ہے ۔پھر دوسرے بچوں کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد نوجوانوں ، جوانوں اور بڑوں کو تھوڑا تھوڑا دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے ۔تمام افراد کو دودھ پہنچا کر اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح ہوتا ہے۔ اس کے بعد قبیلے کے بزرگ کھلے آسمان تلے روٹی پکاتے ہیں جست تمام افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس روٹی میں ہر قسم کے آٹے کے علاوہ علاقے میں پائے جانے والے تمام میوہ جات بھی ڈالے جاتے ہیں جویہاں کی ایک سوغات بھی ہے۔

روٹی کھانے کے بعد تمام مرد و زن مذہبی مقام ”جسٹک خان“ کے سامنے سے گزر کر ایک مخصوص میدان میں آتے ہیں جہاں خواتین ڈھول کی تاپ پر ناچتی اور گاتی ہیں ۔ مرد حضرات اوروادی میں آنے والے سیاح ارد گرد بیٹھ کریہ منظر دیکھتے اور داد دیتے ہیں۔یہ عمل شام ڈھلے تک جاری رہتا ہے پھر جیسے ہی سورج نیچے اترنا شروع کرتا ہے یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

کیلاش کی ثقافت میں خواتین کو منفرد مقام حاصل ہے ۔ گھر کے تمام فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب۔۔ سب خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔یہاں کی خواتین وادی کی مخصوص ثقافت اور تہذیب کی پہچان ہیں۔ خواتین کا کالا لباس، سر پر مخصوص دم دار ٹوپی اور گلے میں موتیوں کے ہار انہیں پوری دنیا سے الگ پہچان دیتے ہیں ۔

چلم جوش کا آخری دن نہایت اہم ہوتا ہے۔ سہ پہر کو جب کیلاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتی ہے تو تمام خواتین خواہ کسی بھی عمر کی ہوں پھر سے ناچنا اور گانا شروع کردیتی ہیں۔ مرداور تماش بین نظارہ کرتے ہوئے ارد گرد کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت کچھ مذہبی پیشوا ایک مقام پر اکھٹے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کی سبز شاخ اٹھائے ہوئے میدان کی طرف آتے ہیں۔ تمام خواتین ان کو سلامی پیش کرتی ہیں۔

اب وہ آخری مرحلہ آتا ہے جوبلکہ منفرد ہے۔ یہ موقع محبت کا سر عام اظہار ہے۔ ایک دوسرے سے محبت کرنے والا لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کاہاتھ تھامتے ہیں اور شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں میدان شادی کے خواہش مند نوجوان جوڑوں سے بھرجاتا ہے۔ لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ہنستے ہیں، چیختے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔

تمام جوڑوں کے میدان سے نکلنے کے بعد شرکاء باری باری ان جوڑوں کے گھروں میں جا کر مبارک باد دیتے ہیں اور یوں وادی میں بہار کا افتتاح ہو تا ہے۔ کیلاشوں میں تقریباً ہر شادی محبت اور ہم خیالی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ یہاں کی ایک خوبصورت داستان بھی ہے۔

Want your business to be the top-listed Travel Agency in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

ABBOTABAD
UNITED PAKISTAN TOURS
Mushkpuri Trip

Location

Telephone

Address


01
Islamabad
44000
Other Tourist Information Centers in Islamabad (show all)
NAMAL Travels NAMAL Travels
Islamabad, 4400

Markhor Off-Roaders Markhor Off-Roaders
Islamabad

Group of travel enthusiastic people who explore the places in Pakistan which are never been explored.... Trip Advisors

Mardan Travel Agents Mardan Travel Agents
Akhtar Travel & Tours , Office No.06 , GD Arcade, Near Savour Foods, Block-H , Fazal E Haq Road, Blue Area
Islamabad, 44000

Travel & Tour Operators

TravelOve TravelOve
Islamabad, 44000

TravelOve launched this page to connect to its members.Like our page to know all updates about our tourism activities.

AT Trekkerz AT Trekkerz
Islamabad, 44000

Pakistan's Only Non Commercial Trekking Club Where we join our Resources and Expertise to do a Track or Climb Mountains

VANGO VANGO
Saddar Road
Islamabad, 44000

Call 03345414314 for Northern side tours. Rent a Cars. (cars, APV/MPV, HIACE, COASTER,)

Ziarat E Pakistan Ziarat E Pakistan
House# 419-A, Street# 37, I-8/2
Islamabad, 44000

Ziarat e Pakistan Travel & Tourism Company. "Think Pakistan | Move Pakistan"

Pakistan World Pakistan World
Park Road
Islamabad, 44000

A community page magazine created to promote online market place for tourism industry in Pakistan and display the unexplored of nature in Pakistan to the world.

Pir Panjal Treks and Tours Pir Panjal Treks and Tours
House # 523, Queen Street, Green Avenue, Chak Shahzad
Islamabad, 45550

Treks and Tours Operator

Travels & Tours Travels & Tours
Bahria Town Phase 4 Civic Centre Near Rasheed Sweets
Islamabad, 44000

Akhtar Travels Akhtar Travels
Office No 06,GD Arcade, Block-H ,Fazal E Haq Road,Blue Area
Islamabad, 44000

Malaysia Visa Services

Knowledge is power Knowledge is power
16-A, Gulberg
Islamabad, 46000

Knowledge is power means that a person has education and a complete control on his life by using that knowledge. Educated persons can easily handle the things in life. Knowledge is the strongest tool providing power to the people and knowledge.

About   Contact   Privacy   FAQ   Login C